دشمن یا صاحبِ اقتدار کا سامنا ہونے پر (1 از 3)

دشمن یا صاحبِ اقتدار کا سامنا ہونے پر۔ فکر، مشکل، خوف اور حفاظت۔

“دشمن یا صاحبِ اقتدار کا سامنا ہونے پر” کے تحت کون سی دعا ہے؟

حصن المسلم میں “دشمن یا صاحبِ اقتدار کا سامنا ہونے پر” کے تحت آنے والی 3 دعاؤں میں سے ایک یوں شروع ہوتی ہے: “⁦Allāhumma innā naj`aluka fī nuḥūrihim⁩”، اور اس کا مطلب ہے: “اے اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو انہیں ان کی گردنوں سے پکڑ کر روک دے”۔ حوالہ: ⁦Abu Dawud 2/89⁩، اور یہ حصن المسلم میں جمع ہے۔

دشمن یا صاحبِ اقتدار کا سامنا ہونے پر: عربی متن

اللّهُمَّ إِنا نَجْعَلُكَ في نُحورِهِم،وَنَعوذُ بِكَ مِنْ شُرورِهمْ

تلفظ (رومن حروف میں)

Allāhumma innā naj`aluka fī nuḥūrihim wa na`ūdhu bika min shurūrihim.

اردو ترجمہ

اے اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو انہیں ان کی گردنوں سے پکڑ کر روک دے، اور ہم ان کی برائی سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

کب اور کیسے پڑھیں

حصن المسلم نے یہ دعا “دشمن یا صاحبِ اقتدار کا سامنا ہونے پر” کے عنوان کے تحت درج کی ہے۔

ماخذ میں تکرار کی کوئی مقررہ تعداد نہیں دی گئی۔

یہ دعا کہاں سے ہے؟

یہ دعا حصن المسلم سے ہے، جو قرآن و سنت کی دعاؤں کا مجموعہ ہے اور سعید بن علی القحطانی نے مرتب کیا۔ حوالہ: Abu Dawud 2/89۔

عام سوالات

“دشمن یا صاحبِ اقتدار کا سامنا ہونے پر” کے تحت کون سی دعا ہے؟

حصن المسلم میں “دشمن یا صاحبِ اقتدار کا سامنا ہونے پر” کے تحت آنے والی 3 دعاؤں میں سے ایک یوں شروع ہوتی ہے: “⁦Allāhumma innā naj`aluka fī nuḥūrihim⁩”، اور اس کا مطلب ہے: “اے اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو انہیں ان کی گردنوں سے پکڑ کر روک دے”۔ حوالہ: ⁦Abu Dawud 2/89⁩، اور یہ حصن المسلم میں جمع ہے۔

“دشمن یا صاحبِ اقتدار کا سامنا ہونے پر” کی دعا کا مطلب کیا ہے؟

اے اللہ! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو انہیں ان کی گردنوں سے پکڑ کر روک دے، اور ہم ان کی برائی سے تیری پناہ مانگتے ہیں۔

“دشمن یا صاحبِ اقتدار کا سامنا ہونے پر” کی دعا کا تلفظ کیا ہے؟

تلفظ (رومن حروف میں): ⁦Allāhumma innā naj`aluka fī nuḥūrihim wa na`ūdhu bika min shurūrihim.⁩

“دشمن یا صاحبِ اقتدار کا سامنا ہونے پر” کی دعا کا حوالہ کیا ہے؟

⁦Abu Dawud 2/89⁩۔ یہ دعا حصن المسلم میں ہے، جو قرآن و سنت کی دعاؤں کا مجموعہ ہے۔

مزید دعائیں: پریشانی، تکلیف اور حفاظت · تمام دعائیں